Ticker

6/recent/ticker-posts

ایک عرصہ کے بعد آج ہٹس پر جانے کا اتفاق ہوا تو.......

ایک عرصہ کے بعد آج ہٹس پر جانے کا اتفاق ہوا تو صورتحال مختلف تھی، پہلے بنوں ہٹس پر پلاو کھانے بیٹھے تو حسب معمول ٹشو کے پیکٹس پکڑے یا دوسرے طریقے سے مانگنے والوں کا سامنا کرنا پڑا۔۔
آدھے گھنٹے میں کوئ آٹھ یا 9 بھیک مانگنے والے بچوں نے گھیرا۔مگر شام ڈھلے جونہی قائدین ہٹس پر اپنے ایم ایس سی کے کلاس فیلو آصف کے ہمرا گئے تو وہاں صورتحال مختلف تھی۔بالکل سامنے والے ٹیبل پر عائشہ حمید نامی بائیوانفارمکیٹس سمسٹر 5th کی طالبہ سارا دن ہٹس پر پھرنے والے بچوں کے ایک گروہ کو پاس بٹھائے کچھ پڑھا رہی ہیں۔
چونکہ ایسے کئ پروجیکٹس کو اپنی سٹوڈنٹ لائف میں ہم نے شروع کیے مگر ناکام ہوتے گئے اس لیے یہ سب دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے عائشہ حمید سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے چلارہی ہیں۔
عائشہ حمید چونکہ ہاسٹلائٹ ہیں انہوں نے بتایا کہ میں کوشش کرتی ہوں کہ شام کے اوقات میں ان سب کو انگریز اردو کی رائٹنگ، اخلاقیات، معاشرتی آداب اور دیگر وہ چیزیں سکھاوں جو ان کو نہیں پتہ۔۔انہوں نے بتایا ہے کہ مجھے بھی یہی لگ رہا تھا کہ شائد یہ بچے صرف دو دن آئیں اور بعد میں غائب ہوجائیں مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی اور یہ بچے مسلسل آرہے ہیں۔
عائشہ نے بتایا کہ کم از کم جو دو گھنٹے یہ میرے پاس کچھ پڑھیں گے، سیکھیں گے اس سے تو اچھا ہے کہ یہ ہٹس پر پیسے مانگتے پھریں۔
عائشہ اپنی جیب سے ان کو ٹافیاں، فروٹس اور دیگر چیزیں بھی کھلاتی ہے تاکہ بچوں کی ترغیب جمی رہے۔
عائشہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے اس لیے سوچا کہ عائشہ حمید کو آرٹیکل کی شکل میں خراج تحسین پیش کیا جائے حالانکہ ایسے قدم کئ لوگوں نے اٹھائے جو وقت گزرتے ناکام ہوتے گئے بحرحال یہ ایک بہترین قدم ہے جس سے کم ازکم بچے کسی ایک جگہ جمے رہیں گے اور ان کو بہت کچھ سیکھنے، سمجھنے اور جاننے کا موقع ملے گا جس سے اخلاقی اقدار بھی آئیں گی۔
دوسری طرف ماننگنے والوں کی بڑی تعداد کو کھانے کے دوران ڈسٹرب کرنے سے کوفیت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔۔آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے ڈی سی اسلام آباد کو ایک رپورٹ بھجوائ جس کی تفصیلات کچھ ہوں ہیں
"
اس وقت مین ہٹس اور کیفےٹیریا میں مانگنے والوں کی کُل تعداد 46 افراد پر مشتمل ہے جن میں خواتین کی تعداد 32 ہے ان میں بچے بھی شامل ہیں ، ادھیڑ عمر افراد کی تعداد 9 ہے جبکہ دو ٹرانجسینڈرز ہیں اور تین معزور افراد ہیں جن میں ایک خاتون ہے.
اس کے علاوہ ایک گروہ دو بھائیوں پر مشتمل ہے جو والد یا والدہ کے لیے ہسپتال میں انجیکشن کا بتاتا ہےیا کینسر کا بتاتا ہے  اور ساتھ ہسپتال کی تصاویر دکھاتا ہے آج سے چھ ماہ پہلے اس گروہ کے لیے ہم نے مدد کرنے کی کوشش کی تو متعلقہ ہسپتال کا ڈاکٹر بھی ساتھ ملا تھا اور اس نے کہا کہ ہاں آپ ان کی مدد کردیں مگر جب ہم متعلقہ بیڈ پر پہنچے تو وہاں کوئ دوسرا مریض تھا۔ان میں سے ایک گروہ جو خواتین پر مشتمل ہے وہ طالبات کے لیے فیس بھی مانگتا ہے جیسے چارٹڈ اکاونٹنڈ وغیرہ۔

اس گروہ کے پاس رپورٹس اتنی مضبوط ہوتی ہیں اور ثبوت اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ کوئ بھی شخص بڑی جلدی مدد کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے مگر ان کے ساتھ منظم لوگوں کا گروہ پیچھے سے ملا ہوتا ہے اور سب کچھ پلان ہوتا ہے ہم آخر تک پہنچے اور ہمارے ساتھ شعبہ جینڈر سٹڈی کے سٹاف ممبر راو صاحب بھی اس فراڈ کا شکار ہوئے۔یہ ایک سمارٹ طریقے سے داخل ہوتے ہیں اور کلاسز کے اندر چلے جاتے ہیں۔
اسی طرح دیگر جگہوں سے اور گروہ بھی یونیورسٹی کے اندر اچھی ڈریسنگ میں آتے ہیں۔ایک منظم طریقے سے ایک پورا گروہ اس پیشے کے ساتھ منسلک ہے.
 جو اصلی ضرورت مندوں کو بھی ہمارے تک نہیں پہنچنے دیتا۔گروہ کے ارکان کو زبردستی ٹشوپیپرز یا ایسی ہی چیزیں پکڑا کر ہٹس پر چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ کوئ یہ نہ سمجھے کہ بھیک مانگنے والے ہیں۔
یہ سارا دستہ کوئ 52 افراد پر مشتمل ہے اور ان میں سے بعض کو فیض آباد اڈا، پیر ودھائ اڈا اور میلوڈی فورڈ پارک میں بھی دیکھا گیا ہے۔
2017 میں ہم نے ان کو پڑھانے کے لیے یونیورسٹی کے طلبہ پر ہٹس پر چھوٹا سا سینٹر کھولا مگر دو دن بعد یہ بچے بھاگ گئے کیونکہ ان معصوم بچوں کو کنٹرول کرنے والے منظم پیشہ ور لوگوں کو ڈر ہوگیا تھا۔
دوران کھانا ، چائے اور ڈسکشن کے دوران شدید پریشانی کا سامنا تب ہوتا ہے جب کوئ آکر پیسے لے جائے تو دوسرا اس کے جانے کا انتظار کررہا ہوتا ہے ابھی وہ جاتا ہی ہے کہ دوسرا پیچھے آجاتا ہے اور پھر تیسرا جانے کا انتظار کرتا ہے۔۔ان میں صرف چند ضرورت مند ہیں انہیں سیٹل کیا جاسکتا ہے۔
اللہ ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور معاشرے کو  خوبصورت بنانے کی توفیق دے آمین

Post a Comment

0 Comments